ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: کیا اتر کنڑا میں بھی بی جے پی کر رہی ہے آپریشن کمل کی تیاری ؟ ڈی کے شیوکمار نے کہا نہیں ملے گی کامیابی

کاروار: کیا اتر کنڑا میں بھی بی جے پی کر رہی ہے آپریشن کمل کی تیاری ؟ ڈی کے شیوکمار نے کہا نہیں ملے گی کامیابی

Sat, 28 Oct 2023 19:18:49    S.O. News Service

کاروار 28 / اکتوبر (ایس او نیوز) ریاست میں جب سے اقتدار کی کرسی کانگریس پارٹی کے ہاتھ لگی ہے ، تب سے ایک طرف کانگریسی لیڈران اپنی طرف سے "آپریشن ہستھ "  کا کارڈ کھیل کر بی جے پی لیڈروں کو کانگریس میں شامل کرنے کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں تو دوسری طرف بی جے پی کی طرف سے "آپریشن کمل" کے سہارے کانگریسی اراکین اسمبلی کو خریدنے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششیں ہونے کی خبریں برابر مل رہی ہیں ۔ 

    تازہ ترین معاملہ کانگریس ایم ایل اے روی گانیگا کے اس انکشاف سے سامنے آیا ہے جس میں روی نے بتایا کہ کانگریسی اراکین اسمبلی کو 50 کروڑ روپے اور وزارتی قلمدان کا لالچ دے کر بی جے پی میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ 

    ایم ایل اے روی گانیگا کا کہنا ہے کہ 50 کروڑ روپے اور وزارتی قلمدان کے آفر کے ساتھ اب تک چار کانگریسی اراکین اسمبلی سے براہ راست رابطہ قائم کیا جا چکا ہے اور گانیگا نے رابطہ کار کا نام بی ایل سنتوش بتایا ہے جو کہ بی ایس ایڈی یورپّا کا پرسنل سیکریٹری ہے ۔ یاد رہے کہ یہ وہی سنتوش ہے جس نے اس سے  قبل آپریشن کمل کے تحت  کانگریس اور جے ڈی ایس کی متحدہ حکومت کو گرانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا ۔

    ایم ایل اے روی گانیگا نے بتایا کہ جن کانگریسی اراکین اسمبلی کو بی جے پی میں شامل ہونے کے لئے پیش کش کی  گئی  تھی،  انہوں نے پارٹی سے وفاداری نبھاتے ہوئے ویڈیو اور آڈیو ثبوتوں کے ساتھ پارٹی کے اعلیٰ کمان کو اس سے باخبر کیا ہے اور مناسب وقت پر یہ ثبوت عوام کےسامنے پیش کیے جائیں گے ۔ 

    بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریسی حکومت کا تختہ الٹنے کے مقصد سے آپریشن کمل کے تحت ضلع اتر کنڑا میں بھی دو کانگریسی اراکین اسمبلی کا نام فہرست میں شامل ہے اور ان سے باضابطہ طور پر رابطہ قائم کیا جا چکا ہے ۔ ان میں سے ایک کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے کہ وہ کانگریس لیڈر شپ سے خوش نہیں ہے جبکہ دوسرے ایم ایل اے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپنے مستقبل کو سامنے رکھ کر وہ بی جے پی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو سکتا ہے ۔ اس پس منظر میں سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر بیک وقت پڑے پیمانے پر کانگریسی اراکین اسمبلی کو خریدنے میں بی جے پی کامیاب ہوتی ہے  اور حکومت گرانے کا موقع آتا ہے تو پھر یہ دونوں اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل ہونے کے پورے امکانات موجود ہیں ۔ 

    بی جے پی کی طرف سے کانگریسی حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ کانگریس پارٹی اس سازش سے پوری طرح باخبر ہے اور یہ گیم پلان کامیاب نہیں ہوگا ۔  بی جے پی نے اس سے پہلے کمار سوامی کی اتحادی حکومت کو گرایا تھا تو اُس وقت کے حالات کچھ اور تھے اور اس مرتبہ معاملہ الگ ہی ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے بی جے پی کے کچھ بڑے لیڈروں کا ہاتھ  کام کر رہا ہے مگر اس مرتبہ انہیں کسی قیمت پر کامیابی نہیں ملے گی ۔ 


Share: